کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ طواف زیارہ کی دو رکعات ادا کرنے کے بعد حاجی کے لئے اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا حلال ہوجاتا ہے اگرچہ حاجی طواف کرنے کے بعد مکّہ مکرّمہ میں ہی ہو اور ابھی منیٰ واپس نہ لوٹا ہو
حدیث نمبر: 2942
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ الْبَيْتَ ، فَيَطُوفُ بِهِ أُسْبُوعًا ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، وَتَحِلُّ لَهُ النِّسَاءُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الله شریف کی زیارت کرتے طواف کے سات چکّر لگاتے اور دو رکعات ادا کرتے اور پھر آپ کے لئے آپ کی ازواج مطہرات حلال ہوجاتیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2942
تخریج حدیث صحيح بخاري