کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: یوم النحر دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد طواف زیادت سے پہلے شکار کرنا اور جو چیزیں محرم کے لئے حرام تھیں وہ سب جائز ہو جاتی ہیں
حدیث نمبر: Q2937
إِنْ ثَبَتَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فِي خَبَرِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ لَمْ تَثْبُتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَبَرُ عَائِشَةَ فِي تَطْيِيبِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَالٌّ عَلَى أَنَّ الِاصْطِيَادَ جَائِزٌ إِذَا جَازَ التَّطَيُّبُ، وَخَبَرُ أُمِّ سَلَمَةَ يُصَرِّحُ أَنَّ الِاصْطِيَادَ بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ مُبَاحٌ، وَهُوَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ‏"‏ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ فِي مَوْضِعِهِ بَعْدَ خَبَرِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ فِي هَذَا أَيْضًا‏.‏
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2937
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ ، إِلا النِّكَاحَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُهُ : إِلا النِّكَاحَ يُرِيدُ النِّكَاحَ الَّذِي هُوَ الْوَطْءُ ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ مَعَانِي الْقُرْآنِ أَنَّ اسْمَ النِّكَاحِ عِنْدَ الْعَرَبِ يَقَعُ عَلَى الْعَقْدِ وَعَلَى الْوَطْءِ جَمِيعًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم رمی کرلو اور سر منڈوالو تو تمھارے لئے خوشبو لگانا کپڑے پہننا حلال ہے سوائے عورتوں سے جماع کرنے کے ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ ” سوائے نکاح کے “ اس سے آپ کی مراد بیوی سے جماع کرنا ہے ، میں نے کتاب معاني القرآن میں بیان کیا ہے کہ عرب کے ہاں نکاح کا لفظ عقد نکاح اور بیوی سے ہمبستری دونوں معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2937
تخریج حدیث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہی اتباع کا زیادہ حق رکھتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2938
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2939
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: " إِذَا رَمَى الرَّجُلُ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، وَذَبَحَ وَحَلَقَ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ ، إِلا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ " . قَالَ قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ: " قَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ ، إِلا النِّسَاءَ " ، وَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي إِخْبَارِ عَائِشَةَ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ وَذَبَحَ وَحَلَقَ كَانَ حَلالا قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، خَلا مَا زُجِرَ عَنْهُ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ الَّذِي لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّهُ مَمْنُوعٌ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حاجی جمرہ عقبہ پررمی کرلے ، سر منڈوالے اور قربانی ذبح کرلے تو اُس کے لئے خوشبو اور بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔ جناب سالم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، تو اس کے لئے بیوی سے جماع کے علاوہ ہر چیز حلال ہوجاتی ہے ۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( طواف زیارہ سے پہلے ) خوشبو لگائی تھی ۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولنے کے وقت طواف زیارہ سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرلی قربانی ذبح کرلی اور سر کے بال منڈوا لیے تو آپ طواف زیارہ کرنے سے پہلے احرام اتار چکے تھے ۔ صرف بیوی سے ہمبستری کرنا منع تھا کیونکہ اس میں علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ طواف زیارہ سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرنا منع ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2939
تخریج حدیث حسن