کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: حج اور عید کی قربانی میں آنکھوں اور کانوں میں نقص والے جانور ذبح نہ کرنا ، یہی ہے کہ ایسے جانور ذبح نہ کرنا بہتر ہے ۔
حدیث نمبر: Q2914
إِذْ صَحِيحُ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ أَفْضَلُ، لَا أَنَّ النَّقْصَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَوَرًا بَيِّنًا غَيْرَ مُجْزِئٍ، وَلَا أَنَّ نَاقِصَ الْأُذُنَيْنِ غَيْرُ مُجْزِئٍ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ صحیح سلامت آنکھوں اور کانوں والا جانور ذبح کرنا افضل ہے ، یہ مطلب نہیں کہ آنکھ اور کان میں ( معمولی ) نقص والا جانور بھی قربان کرنا منع ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2914
حدیث نمبر: 2914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ , وَهَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم ( قربانی کے جانور کے ) کان اور آنکھیں اچھی طرح دیکھ بھال لیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2914
تخریج حدیث اسناده حسن
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، فَقَالَ : الْقَرْنُ ، فَقَالَ : لا يَضُرُّكَ ، قَالَ : الْعَرْجُ ، قَالَ : إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں سوال کیا تو اُنھوں نے فرمایا کہ گائے کی قربانی میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں ۔ اُس نے پوچھا کہ اگر سینگ ( تھوڑا سا ٹوٹا ہوا ہو؟ ) انھوں نے فرمایا ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اس نے پھر عرض کیا کہ انگڑے پن کا کیا حُکم ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب چل کر قربان گاہ پہنچ جائے تو کوئی حرج نہیں ، فرمایا کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیں ( کہ ان میں نقص نہ ہو ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2915
تخریج حدیث اسناده حسن