کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: حج کی قربانی اور عید کی قربانی پر کٹے کان والا جانور ذبح کرنے کی ممانعت صرف اس لئے ہے کہ صحیح سلامت کان اور سینگ والا جانور ذبح کرنا افضل واعلیٰ ہے یہ مطلب نہیں کہ کٹے کان اور ٹوٹے سینگ والا جانور قربان کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: Q2913
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَعْلَمَ أَنَّ أَرْبَعًا لَا تُجْزِئُ، دَلَّهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَنَّ مَا سِوَى ذَلِكَ الْأَرْبَعِ جَائِزٌ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بتادیا چار قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے علاوہ جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2913
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، رَجُلا مِنْهُمْ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُضَحِّيَ بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالأُذُنِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : الْعَضْبُ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ . ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : الْعَضْبُ الْقَرْنُ الدَّاخِلُ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے ۔ امام قتادہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت امام سعید بن مسیب رحمه الله کو سنائی تو اُنھوں نے فرمایا : عضب سے مراد وہ جانور ہے جس کا آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا آدھا كان چیرا ہوا ہو۔ جناب شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ عضب سے مراد ہے اندر تک ٹوٹا ہوا سینگ ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2913
تخریج حدیث ضعيف