کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ایک اونٹ یا گائے کی قربانی میں کئی افراد شریک ہوسکتے ہیں
حدیث نمبر: Q2900
وَإِنْ كَانَ مَنْ يَشْتَرِكُ فِي الْبَقَرَةِ الْوَاحِدَةِ أَوِ الْبَدَنَةِ الْوَاحِدَةِ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاحِدٍ، مَعَ الدَّلِيلِ أَنَّ سُبْعَ بَدَنَةِ وَسُبْعَ بَقَرَةٍ تَقُومُ مَقَامَ شَاةٍ فِي الْهَدْيِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اگرچہ یہ شریک ہونے والے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہوں اور ایک ہی خاندان کے افراد نہ ہوں ۔ اس دلیل کے بیان کےساتھ کہ ایک اونٹ یا گائے کا ساتواں حصّہ قربانی میں ایک بکری کے برابر ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2900
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " اشْتَرَكْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ " ، زَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، وَقَالا جَمِيعًا : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ الْبَقَرَةَ اشْتَرَكَ فِيهَا مَنْ يَشْتَرِكُ فِي الْجَزُورِ ، فَقَالَ : مَا هِيَ إِلا مِنَ الْبُدْنِ ، وَخَصَّ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ كُلَّ بَدَنَةٍ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَقَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ : قَالَ : اشْتَرَكْنَا كُلَّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ ، وَنَحَرْنَا سَبْعِينَ بَدَنَةً يَوْمَئِذٍ وَالْبَاقِي لَفْظًا وَاحِدًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج اور عمرے میں ایک اونٹ میں سات افراد نے شرکت کی جناب عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس دن ہم نے ستّر اونٹ نحر کیے ۔ پھر دونوں راویوں کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ، کیا اونٹ کی طرح گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ گائے بھی بدنته ( قربانی کے جانوروں میں ) شامل ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو صلح حدیبیہ کے متعلق بیان کیا ہے جناب عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے کہ اس دن ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہم سات افراد نے ایک اونٹ میں شرکت کی اور اس دن ہم نے ستّر اونٹ نحر کیے ۔ باقی روایت ایک جیسی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2900
تخریج حدیث صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور گائے بھی سات افراد کی طرف سے قربان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2901