کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد جمرے کے پاس ٹھہرنا نہیں چاہیے
حدیث نمبر: 2888
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ ، أَهَلَّ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : " فَيَأْتِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَلا يَقِفُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج یا عمرہ میں جب آپ کی سواری آپ کو لیکر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہوجاتی تو آپ تلبیہ کہتے ۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر آپ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو اُسے سات کنکریاں ماریں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ « اللهُ أَكْبَرُ » پڑھتے اور جمرے کے پاس ٹھہرے نہیں بلکہ فارغ ہوکر واپس لوٹ گئے ۔