کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جمرات پر رمی کرنے کے لئے کنکریاں مزدلفہ ہی سے چننے کا بیان
حدیث نمبر: Q2867
وَالْبَيَانُ أَنَّ كَسْرَ الْحِجَارَةِ لِحَصَى الْجِمَارِ بِدْعَةٌ، لِمَا فِيهِ مِنْ إِيذَاءِ النَّاسِ وَإِتْعَابِ أَبْدَانِ مَنْ يَتَكَلَّفُ كَسْرَ الْحِجَارَةِ تَوَهُّمًا أَنَّهُ سُنَّةٌ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کا بیان کے پتھر توڑ کر کنکریاں بنانا بدعت ہے کیونکہ اسے سنّت سمجھ کر پتھر توڑنے والا لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور اپنے آپ کو تھکاتا ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2867
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حَصِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ ، وَهَكَذَا قَالَ عَوْفٌ : " هَاتِ الْقُطْ حَصَيَاتٍ هِيَ حَصَى الْخَذْفِ " ، فَلَمَّا وُضِعْنَ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح ( 10 ذوالحجہ کو ) مجھے حُکم دیا : ” آؤ میرے لئے کنکریاں چن دو چھوٹی چھوٹی ہوں ( جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکی جاسکتی ہوں ) ۔ ‘‘ جب میں نے وہ آپ کے دست مبارک پر رکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی قسم کی کنکریاں لے لو بس ایسی ہی کنکریاں چن لو خبر دار دین کے کاموں میں غلو کرنے سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2867
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا بِهِ بُنْدَارٌ مَرَّةً أُخْرَى بِمِثْلِ هَذَا اللَّفْظِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حَصِينٍ ، وثنا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حَصِينٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ عَوْفٌ : لا أَدْرِي الْفَضْلَ ، أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ : " الْقُطْ لِي حَصَيَاتٍ " ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابو العالیہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا جناب عوف کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت فضل یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عقبہ کی صبح حُکم دیا میرے لئے کنکریاں چن دو ، مذکورہ بالا کی مثل روایت بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2868
تخریج حدیث انظر الحديث السابق