کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: تیز چلنے کی ابتدا وادی محسر میں ہوئی تھی
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ يَقِفُونَ حَافَتَيِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ ، فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ ، فَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ ظَفْرَيْ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ الأَرْضَ حَادِكَهَا ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " ، وَرُبَّمَا كَانَ يَذْكُرُهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام عطاء رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ تیز چلنے کی ابتداء دیہاتی لوگوں نے کی تھی ۔ وہ لوگوں کے گرد کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے اپنا زادراه ، لاٹھیاں اور پیالے وغیرہ لٹکائے ہوتے تھے ۔ پھر جب وہ واپس جاتے تو اُن کے برتن اور سامان آپس میں ٹکراتے اور گونجتے ، میں بھی لوگوں کے ساتھ واپس روانہ ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا گیا کہ آپ کی اونٹنی کے کانوں کی پچھلی ہڈیاں گردن کی پشت پر لگ رہی تھیں ( کیونکہ آپ نے نکیل خوب کھینچی ہوئی تھی ) اور آپ فرمارہے تھے : ” اے لوگو ، آرام سے چلو، اے لوگو ، سکون و اطمینان کے ساتھ چلو “ بعض اوقات امام عطاء نے یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2863
تخریج حدیث اسناده صحيح