کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: مشعر حرام سے واپس لوٹنا اور واپسی میں مشرکین اور بت پرستوں کے طریقے کی مخالفت کرنا
حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " كَانَ الْمُشْرِكُونَ لا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مشرک لوگ مزدلفہ سے اُس وقت تک واپس نہیں آتے تھے حتّیٰ کہ سورج ثبیر پہاڑ کی چوٹی پر چمکنے لگ جاتا ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی مخالفت کرتے ہوئے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی واپس روانہ ہوگئے ۔