کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے دعا مانگنے ، ذکر الہٰی اور « لَا اِلٰه اِلَّا اللّٰهُ » پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2846
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " وَوَقَفَ يَعْنِي بِعَرَفَةَ ، حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ أَقْبَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ وَيُعَظِّمُهُ ، وَيُهَلِّلُهُ وَيُمَجِّدُهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج یا عمرے کے سفر میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آپ کو لیکر سیدھی ہوتی تو آپ تلبیہ پکارتے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔ اور فرمایا کہ آپ میدان عرفات میں ٹھہرے رہے حتّیٰ کہ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کردیا ۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت ، اس کی الوہیت کا اقرار « لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ » اور اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2846
تخریج حدیث صحيح مسلم