کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ عرفات سے واپسی پر آرام و سکون سے چلنے کا حُکم جس حدیث میں ہے اس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے
حدیث نمبر: Q2845
وَالْبَيَانُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يَسِيرُ سَيْرَ السَّكِينَةِ فِي الْوَقْتِ الَّذِي لَمْ يَجِدْ فَجْوَةً إِذْ قَدْ نَصَّ عِنْدَ وُجُودِ الْفَجْوَةِ فِي السَّيْرِ عِنْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَةَ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ مَا بَانَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: فَمَا رَأَيْتُ نَاقَتَهُ رَافِعَةً يَدَهَا حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا- أَيْ فِي الزِّحَامِ دُونَ الْوَقْتِ الَّذِي وَجَدَ فِيهِ فَجْوَةً- إِذْ أُسَامَةُ هُوَ الْمُخْبِرُ أَنَّهُ نَصَّ لَمَّا وَجَدَ الْفَجْوَةَ.
حدیث نمبر: 2845
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ أَحْسَنُهُمْ سِيَاقًا لِلْحَدِيثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي ، وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ يَسْأَلُ كَيْفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " ، قَالَ سُفْيَانُ : النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي حَدِيثِهِ مُدْرَجًا ، وَالنَّصُّ أَرْفَعُ مِنَ الْعَنَقِ ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ يَعْنِي فَوْقَ الْعَنَقِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو سنا جبکہ وہ میرے پاس تشریف فرما تھے ۔ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ عرفات سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ۔ حضرت عروہ نے پوچھا کہ عرفات سے واپس آتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسی چال چلے تھے ؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ درمیانی چال چلے تھے لیکن جب جگہ کھلی ملتی تو اونٹنی کو تیز چلاتے ۔ امام سفیان رحمه الله فرماتے ہیں کہ نص العنق سے تیز دوڑ کو کہتے ہیں ۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان کی روایت میں ہی الفاظ درج ہیں کہ نص عنق سے تیز چال کو کہتے ہیں ۔ اور جناب وکیع کی روایت میں درج ہے کہ یعنی عنق سے تیز چال چلتے ۔ “