حدیث نمبر: Q2843
وَالْأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ فِي السَّيْرِ بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس وقت آرام اور سکون کے ساتھ چلنے کا حُکم ہے لیکن اس حدیث کے الفاظ عام ہیں اور ان سے مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 2843
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، وَغَدَاةَ جَمْعٍ حِينَ دَفَعُوا النَّاسُ : " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب لوگ روانہ ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ، آرام و سکون سے چلو ‘‘ جبکہ آپ نے اپنی اونٹنی کو روکا ہوا تھا ۔