کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفات کی وجہ تسمیہ کا بیان
حدیث نمبر: 2842
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ ، فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى ، ثُمَّ ذَهَبَ مَعَهُ إِلَى عَرَفَةَ ، فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِعَرَفَةَ ، وَوَقَّفَهُ فِي الْمَوْقِفِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةِ ، ثُمَّ أَبَاتَ لَيْلَتَهُ ، ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ : أَعْرِفِ الآنَ ، فَأَرَاهُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا ، فَعَلَ ذَلِكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل عليه السلام ، حضرت ابراهیم عليه السلام کو منا سک حج سکھانے اور دکھانے کے لئے آئے تو انہیں منیٰ میں ظہر ، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائیں ، پھر وہ اُن کے ساتھ عرفات گئے اور عرفات میں اُنہیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں اور اُنھیں سورج غروب ہونے تک موقف میں ٹھہرایا ، پھر انہیں لیکر روانہ ہوگئے ، پھر انہیں مغرب عشاء اور صبح کی نمازیں مزدلفہ میں پڑھائیں ، رات مزدلفہ میں ہی بسرکرائی ، پھر ( صبح کومنیٰ جاکر ) جمره پر کنکریاں ماریں ۔ پھر تمام مناسک دکھانے کے بعد فرمایا کہ إعرف الأن ( اب اچھی طرح پہچان لو ) ۔ اسی طرح حضرت جبرائیل عليه السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام مناسک سکھائے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2842
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔