کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ عرفات کے حاجیوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے
حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ أَهْلَ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ لَهُمْ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا غُبْرًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک الله تعالی عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر و مباہات کا اظہار فرماتا ہے ۔ اللہ تعالی اُن سے فرماتا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو کیسے غبار آلود پراگنده حال میں میرے دربار میں حاضر ہیں ۔
حدیث نمبر: 2840
قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَرَوَى مَرْزُوقٌ هُوَ أَبُو بَكْرٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاحِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَتَقُولُ لَهُ الْمَلائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ، فِيهِمْ فُلانٌ يَزْهُو ، وَفُلانٌ وَفُلانٌ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ " . حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثنا مَرْزُوقُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ مَرْزُوقٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عرفات کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” میرے بندوں کی طرف دیکھو، وہ میری بارگاہ میں کس قدر غبار آلودہ پراگنده حالت میں حاضر ہیں ، ہر دور دراز علاقے سے حاضر ہوئے ہیں ۔ میں تمہیں گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں معاف کردیا ہے ۔ “ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ، ان میں فلاں متکبّر بھی ہے اور ان میں فلاں فلاں گناہ گار بھی ہیں ، الله تعالیٰ فرمائے گا کہ ” میں نے ان سب کو بخش دیا ہے ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں : ” عرفہ والے دن جس کثرت سے لوگوں کو جہنّم سے آزادی ملتی ہے وہ کسی اور دن میں نہیں ملتی ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں مرزوق ( راوی ) کی ذمہ داری سے بری ہوں ۔