کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: میدانِ عرفات اور موقف میں تلبیہ پکارنا مستحب ہے تاکہ یہ سنّت زندہ رہے کیونکہ کچھ لوگوں نے بعض اوقات میں تلبیہ کہنا چھوڑ دیا تھا
حدیث نمبر: 2830
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ لِي : يَا سَعِيدُ ، مَا لِي لا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ ؟ فَقُلْتُ : يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ ، فَقَالَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ، بَيَانٌ أَنَّهُ كَانَ يُلَبِّي بِعَرَفَاتٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت سعید بن جبیر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ، تو اُنھوں نے مجھ سے کہا کہ اے سعید ، کیا وجہ ہے کہ مجھے لوگوں کے تلبیہ پکارنے کی آواز نہیں آرہی ؟ میں نے عرض کیا ، وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اپنے خیمے سے نکلے اور کہنے لگے « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ » ” اے اللہ ، میں حاضر ہوں ، اے اللہ ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ “ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دشمنی کی وجہ سے تلبیہ کی سنّت کو چھوڑ دیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث کہ آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہے تھے ، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ میدان عرفات میں تلبیہ پکارتے تھے ۔