کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفات کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ قوت و طاقت کے ساتھ خوب دعائیں مانگی جا سکیں
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ هُوَ يَوْمَئِذٍ بِعَرَفَةَ " . حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، بِذَلِكَ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن ان کے پاس کچھ صحابہ کرام کا اختلاف ہوگیا کہ کیا رسول اللہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں ؟ کچھ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے اور کچھ کہنے لگے کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا ، پس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پی لیا، آپ اس دن میدان عرفات میں تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2828
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2829
وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ بِذَلِكَ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ سے یہی روایت بیان کرتی ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2829
تخریج حدیث صحيح بخاري