کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفہ کے دن فضیلت اور اس دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت و بخشش کی امید کا بیان
حدیث نمبر: 2827
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ . ح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَأَنَّهُ لَيَدْنُو ، ثُمَّ يُبَاهِي الْمَلائِكَةَ ، وَيَقُولُ : مَا أَرَادَ هَؤُلاءِ ؟ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عرفہ کے دن کے سوا کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ اتنی کثرت سے بندوں کو جہنّم کی آگ سے نجات عطا فرمائے ۔ اس روز اللہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے ساتھ ( ان حجاج کی وجہ سے ) فخر کا اظہار کرتا ہے ۔ اور فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2827
تخریج حدیث صحيح مسلم