کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ وقوف عرفہ ابراہیم خلیل الرحمٰن عليه السلام کی سنّت اور وراثت ہے ، نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت اس وراثت کی وارث ہے
حدیث نمبر: 2818
ثنا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُهُ عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ وَهُوَ أَخْوَالُهُ ، قَالَ : " أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ ، وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِعَرَفَةَ خَلْفَ الْمَوْقِفِ مَوْضِعٍ يَبْعُدُهُ عَمْرٌو عَنِ الْمَوْقِفِ ، فَقَالَ : إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم وادی عرفات میں موقف سے پیچھے ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جناب عمرواس جگہ کو امام کے موقف سے دور قرار دیتے تھے ۔ تو اُنھوں نے فرمایا کہ میں تمھاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2818
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2819
وحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ , قَالَ : وَأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ : كُنَّا وُقُوفًا مِنْ وَرَاءِ الْمَوْقِفِ مَوْقِفًا يَتَبَاعَدُهُ عَمْرُو مِنَ الإِمَامِ ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ، يَقُولُ لَكُمْ : " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ " ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا عَمَّارٍ ، قَالَ : كُنَّا وُقُوفًا وَمَكَانًا بَعِيدًا خَلْفَ الْمَوْقِفِ ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب یزید بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ ہم موقف کے پیچھے کھڑے تھے ، جناب عمرو کے نزدیک یہ جگہ امام کے موقف سے بہت دور تھی ۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اُنھوں نے فرمایا کہ بیشک میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حُکم دیتے ہیں کہ تم اپنی انہی نشانیوں کی جگہوں پرٹھہرے رہو کیونکہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی میراث میں سے ایک میراث پر ہو۔ ایک روایت میں جناب ابو عمار بیان کرتے ہیں کہ ہم موقف سے دور ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے تو ہمارے پاس سیدنا ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2819
تخریج حدیث انظر الحديث السابق