کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفات کے دن نماز جلدی پڑھنے کا بیان ، نماز میں تأخیر نہیں کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 2813
ثنا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمًا ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِأَهْلِ مَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُتِمُّونَ صَلاتَهُمْ " . وَإِنَّ وَإِنَّ سَالِمًا ، قَالَ لِلْحَجَّاجِ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ الْحَجَّاجُ ، فَكَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ كَيْفَ يَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ ، قَالَ سَالِمٌ: فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ: " إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ ، فَهَجِّرْ بِالصَّلاةِ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " صَدَقَ ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ يَوْمَ عَرَفَةَ " ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا يَتَّبِعُونَ سُنَّتَهُ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکّہ والوں کو دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیتے تھے پھر وہ کھڑے ہوکر اپنی بقیہ نمازمکمّل کرلیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف جس سال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے لئے مکّہ مکرّمہ آیا ، حضرت سالم نے حجاج کو کچھ مسائل بتائے ۔ اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ وہ انھیں بتائیں کہ عرفات میں کیسے اعمال حج ادا کرنے ہیں ۔ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا ، اگرتم سنّت نبوی پرعمل کرنا چاہتے ہو تو عرفات کے دن نماز کو پہلے وقت میں ادا کرو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا ہے ۔ صحابہ کرام عرفات کے دن نماز ظہر اور عصر جمع کرکے سنّت کے مطابق ادا کرتے تھے ۔ میں نے سالم سے عرض کیا ، کیا یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ بلاشبہ صحابہ کرام صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی پیروی کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2813
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔