کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرتے وقت ان کے درمیان نفل نماز ترک کردینے کا بیان اور موقف میں جانے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " فَخَطَبَ ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلالٌ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، لَمْ يُصَلَّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا ، ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے ( حجة الوداع کی ) تفصیلی روایت بیان کی ۔ اُنھوں نے فرمایا ، پھر نبی کریم نے خطبہ ارشاد فرمایا ۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان پڑھی ، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر اُنھوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی ، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی ( نفل ) نماز نہیں پڑھی ۔ پھر آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر موقف ( کھڑے ہوکر دعائیں مانگنے کے مقام ) پر تشریف لائے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2812
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔