کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: عرفہ کے دن مختصر خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، جَاءَ لِلْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : الرَّوَاحُ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ ، فَقَالَ : هَذِهِ السَّاعَةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سَالِمٌ : فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ : " إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ ، فَأَقْصِرِ الْخُطْبَةَ ، وَعَجِّلِ الصَّلاةَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : صَدَقَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما عرفات والے دن سورج ڈھلنے کے بعد حجاج بن یوسف کے پاس آئے، میں بھی اُن کے ساتھ تھا ۔ اُنھوں نے فرمایا کہ اگر سنّت نبی پرعمل کرنا چاہتے ہو تو چلو ( اور خطبہ دو ) اُس نے عرض کیا کہ ابھی چلوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں ابھی چلو ۔ حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجاج سے کہا ، اگرتم آج سنّت نبی پرعمل پیرا ہونا چاہتے ہو تو خطبه مختصر دینا اور نماز جلدی پڑھانا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ، سالم نے سچ کہا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2810
تخریج حدیث صحيح بخاري