کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: منیٰ سے صبح کے وقت عرفات جاتے وقت « اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلٰهَ إِلَّا الله » اور تلبیہ پڑھنا
حدیث نمبر: 2806
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، قَالَ : غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلا آدَمَ ، لَهُ ضَفِيرَانِ ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَكَانَ يُلَبِّي ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءٌ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ : يَا أَعْرَابِيُّ ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ ، إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ : " أَجَهِلَ النَّاسُ ، أَمْ نَسَوْا ؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ الْعَقَبَةَ ، إِلا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَهْلِيلٍ أَوْ تَكْبِيرٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابن سخبره بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے وقت منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گندمی رنگ کے شخص تھے انکے بالوں کی دو لٹیں تھیں اور اُن پر دیہاتی لوگوں کا ایک نشان تھا ۔ وہ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو ان کے گرد کم علم نادان لوگ جمع ہوگئے ، وہ کہنے لگے کہ اے دیہاتی ، آج کے دن تلبیہ نہیں پکارتے ، آج تو تکبیریں پڑھنے کا دن ہے اس وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں ، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ۔ بیشک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلا تھا تو آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک تلبیہ ختم نہیں کیا تھا ، البتہ آپ تلبیہ کے ساتھ « اللهُ أَكْبَرُ » اور « لَا إِلٰهَ إِلَّا الله » پڑھ لیتے تھے ۔