کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے سورج طلوع ہونے کے بعد روانگی میں ابراہیم خلیل اللہ عليه السلام کی اتباع کی ہے
حدیث نمبر: Q2803
إِذْ قَدْ أُمِرَ بِاتِّبَاعِهِ قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-‏:‏ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ ‏[‏الْأَنْعَامِ‏:‏ 90‏]‏‏.‏ وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَدْ سَمِعَ مِنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ آپ کی اتباع کرنے کا حُکم دیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے « أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ » [ سورۃ الانعام :90 ] ” یہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ، لہٰذا
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2803
حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنِّي مُصَفِّفٌ مِنَ الأَهْلِ وَالْحُمُولَةِ ، إِنَّمَا حُمُولَتُنَا هَذِهِ الْحُمُرُ الدَّيَّانَةُ ، أَفَأَفِيضُ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَإِنَّهُ بَاتَ بِمِنًى ، حَتَّى أَصْبَحَ وَطَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ سَارَ إِلَى عَرَفَةَ حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهَا " ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ : مَنْزِلَهُ مِنْ عَرَفَةَ ، وَقَالُوا : ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ مَوْقِفَهُ مِنْهُ ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ : مِنْهَا ، وَقَالُوا : حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ فَأَتَى جَمْعًا ، قَالَ زِيَادٌ : فَنَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهُ ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ : مِنْهَا ، وَقَالُوا : ثُمَّ بَاتَ بِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ الْمُعَجَّلَةِ ، وَقَفَ حَتَّى إِذَا كَانَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ الْمُسْفِرَةِ أَفَاضَ ، فَتِلْكَ مِلَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ، وَقَدْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّبِعَهُ ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابن ابی ملیکہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک قریشی آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گزارش کی کہ میں اپنے گھر والوں اور سامان والے اونٹوں کے ساتھ ہوں ۔ اور ہمارا سامان ان کمزور گدھوں پر ہے ، کیا میں رات کے وقت ہی مزدلفہ سے روانہ ہو جاؤں ؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ابراہیم عليه السلام نے تورات منیٰ میں گزاری تھی ، حتّیٰ کہ جب صبح ہوگئی اور سورج طلوع ہوگیا تو میدان عرفات کی طرف چل پڑے تھے ۔ حتّیٰ کہ عرفات میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوگئے ۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے ، حتّیٰ کہ عرفات میں اپنی منزل پر تشریف فرما ہوگئے ۔ پھر زوال شمس کے بعد عرفات میں وقوف کیا ( دعائیں مانگیں ) پھر جب سورج غروب ہوگیا تو مزدلفہ آ گئے اور اپنے مقام پر فروکش ہوگئے ۔ پھر رات مزدلفہ ہی میں گزاری پھراگرصبح کی نماز جلدی (اندھیرے میں ) پڑھتے تو ٹھہر جاتے ( اور دعائیں مانگتے ) اگر فجر کی نماز صبح روشن کرکے ادا کرتے تو منیٰ روانہ ہو جاتے ۔ یہ ہے تمہارے جد امجد ابراہیم عليه السلام کا طریقہ مبارک ۔ اور الله تعالیٰ نے تمہارے نبی کو ان کی اتباع کا حُکم دیا ہے ۔ یہ جناب ابن علیہ کی حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2803
تخریج حدیث اسناده صحيح موقوفا