کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: منیٰ سے عرفات روانہ ہونے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الإِمَامُ الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى عَرَفَةَ ، فَيَقِيلُ حَيْثُ قَضَى لَهُ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ يَفِيضَ فَيُصَلِّي بِالْمُزْدَلِفَةِ ، أَوْ حَيْثُ قَضَى اللَّهُ ، ثُمَّ يَقِفَ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْهِ ، إِلا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر ، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائے پھر صبح کے وقت عرفات روانہ ہو جائے اور جو جگہ میسر آئے وہاں دوپہر کو آرام کرے ۔ حتّیٰ کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے ۔ پھر نمازظہر اور عصر جمع کرکے ادا کرے ۔ پھر سورج غروب ہونے تک عرفات میں کھڑے ہوکر دعا و گریہ زاری کرے ۔ پھر وہاں سے چلے اور مزدلفہ میں آ کر نماز پڑھے یا جہاں اللہ تعالی کو منظور ہو پڑھ لے پھر مزدلفہ میں ٹھہرا رہے حتّیٰ کہ جب صبح روشن ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو جائے ۔ پھر جب ( منیٰ پہنچ کر ) جمرہ کبریٰ کو رمی کر لیگا تو اُس کے لئے عورتوں سے ہمبستری اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جائیگی جو ( احرام کی وجہ سے اُس پر حرام تھیں ۔ حتّیٰ کہ جب بیت اللہ کا طواف کرلیگا ۔ ( تو وہ پابندی بھی ختم ہو جائیگی ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2800
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : مِنْ سُنَّةٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ ، وَقَالَ : " فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ ، إِلا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ خَلا النِّسَاءَ ، لأَنَّ عَائِشَةَ خَبَّرَتْ : " أَنَّهَا طَيَّبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَيْتِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حج کا طریقہ یہ ہے ۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی ۔ راویوں کا کچھ الفاظ میں اختلاف ہے ۔ اور فرمایا کہ تو اس پر عورت کے سوا ہر چیز حلال ہوجائیگی جو اس پر احرام کی وجہ سے حرام تھی ۔ حتّیٰ کہ بیت اللہ شریف کا طواف کرلے( تو پھر وہ بھی حلال ہو جائیگی ) ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ جمرہ پر رمی کرنے کے بعد اس کے لئے بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جائیگی کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2801
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔