کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: حج قران اور حج مفرد کرنے والے یومِ النحر تک حالت احرام ہی میں رہیں گے
حدیث نمبر: 2789
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ . ح وحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو تو وہ حج اور عمرے کا احرام باندھے پھر وہ عمرے کے بعد احرام نہ کھولے حتّیٰ کہ ( 10 ذوالحجہ کو ) حج اور عمرے دونوں کا احرام اکھٹا کھولیگا ۔
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ الْعَبْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ عَلَى أَنْوَاعٍ ثَلاثَةٍ : فَمِنَّا مَا أَحْرَمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ مُفْرِدًا ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ ، فَلا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ قمِمَّا حُرِّمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَدْ قَضَى عُمْرَتَهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں روانہ ہوئے تو ہم نے تین قسم کے احرام باندھے تھے ۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا ۔ ہم میں سے کچھ افراد نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ مناسک حج ادا کرنے تک کسی پابندی سے آزاد نہ ہو جو اس پر احرام کی وجہ سے لاگو ہوئی تھیں ۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرنے اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد فارغ ہوگیا حتّیٰ کہ اس نے ( 8 ذوالحجہ کو ) حج کا احرام باندھا ۔