کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جو شخص کم علمی اور جہالت کی بنا پر صفا مروہ کی سعی بیت اللہ کے طواف سے پہلے کرلے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ جبکہ اسے معلوم نہ ہو کہ بیت اللہ شریف کا طواف سعی سے پہلے ہے
حدیث نمبر: 2774
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا ، وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا ، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " لا حَرَجَ ، لا حَرَجَ " ، إِلا رَجُلٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حج کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا ۔ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوتے تو کوئی کہتا کہ اے اللہ کے رسول ، میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی ہے ۔ ( کوئی کہتا ) میں نے یہ کام بعد میں کیا ہے یا یہ کام پہلے کرلیا ہے ۔ آپ ان سب سے کہتے : ” کوئی حرج نہیں ، کوئی گناہ نہیں ، سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کی اور وہ شخص ظالم ہوتو یہ وہ شخص ہے جو گناہ گار ہے اور ہلاک و برباد ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2774