کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: Q2753
وَذِكْرِ كَتْبِهِ حَسَنَةٍ، وَرَفْعِ دَرَجَةٍ، وَحَطِّ خَطِيئَةٍ عَنِ الطَّائِفِ بِكُلِّ قَدَمٍ يَرْفَعُهَا، أَوْ يَضَعُهَا فِي طَوَافِهِ، وَإِعْطَاءِ الطَّائِفِ بِإِحْصَاءِ أُسْبُوعٍ مِنَ الطَّوَافِ أَجْرَ مُعْتِقٍ رَقَبَةً إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ مُحْصِيَ الْأُسْبُوعِ الْوَاحِدِ مِنَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2753
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّكَ لَتُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمًا وَلَمْ يَضَعْ ، إِلا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً ، وَيَحُطُّ عَنْهُ خَطِيئَةً ، وَكَتَبَ لَهُ دَرَجَةً " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ أَحْصَى أُسْبُوعًا كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ " ، قَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثهِ: وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عبيد بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونے کے لئے لوگوں سے ٹکراتے اور ان کے ہجوم میں گھس جاتے ہیں ۔ ( اتنی شدید کوشش کرنے کی وجہ کیا ہے؟ ) انہوں نے جواب دیا ، اگر میں یہ کام کرتا ہوں تو ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” ان دونوں کو چھونے سے گناہ معاف ہوتے ہیں “ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے، اُس کے ہر قدم اُٹھانے اور رکھنے پر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے ، اور اس کا ایک درجہ بلند لکھ دیا جاتا ہے ۔ “ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” جس شخص نے پورے سات چکّر لگائے تو گویا یہ ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کی طرح ہے ۔ جناب یوسف کی روایت میں ہے کہ ” اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2753
تخریج حدیث اسناده حسن