کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: طواف کے دوران خیر و بھلائی کی گفتگو کرنے کی رخصت اور بُری بات چیت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّايِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلاةِ ، إِلا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فَلا يَتَكَلَّمْ إِلا بِخَيْرٍ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِدَ الرَّجُلِ يَسِيرُ قَدْ زَنَقَهُ بِهِ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ وَهُوَ طَائِفٌ بِالْبَيْتِ مِنْ بَابِ الْكَلامِ الْحَسَنِ فِي الطَّوَافِ ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” بیشک بیت اللہ شریف کا طواف نماز کی مانند ہے مگر اس میں تمہیں بات چیت کی اجازت ہے ۔ لہذا جو شخص بات چیت کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی والی بات چیت کرے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کرنے کے دوران اس شخص کو حُکم دینا جو ایک آدی کی ناک میں چمڑے کی رسی ڈالے اُسے طواف کرا رہا تھا ، کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کرائے، یہ حدیث بھی اچھی اور عمده كلام کرنے کے باب کے متعلق ہے۔ میں نے اس حدیث کو ایک اور باب میں بیان کیا ہے ۔ ( دیکھیے حدیث نمبر 2751 )
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2739
تخریج حدیث اسناده صحيح