کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کی طرف منہ کرکے اس کا استلام کرتے وقت اللهُ أَكْبَرُ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2716
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُرَيْحٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيُّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ ، فَقَالَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ " ، فَهَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ اسْتَقْبَلَهُ الْحَجَرُ ، فَكَبَّرَ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی حج یا عمرے میں ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس جب آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ ان الفاظ میں تلبیہ پکارتے « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ والنِّعْمَة لَكَ والمُلْكُ ، لَا شَرِيكَ لَكَ » ” اے اللہ ، میں حاضر ہوں ، میں تیری بندگی پر کاربند ہوں ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، بیشک سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور ہر نعمت تیری ہی عطا کی ہوئی ہے ، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف پہنچنے تک اسی طرح تلبیہ کہتے رہتے حتّیٰ کہ آپ حجر اسود کے سامنے آتے تو « اللهُ أَكْـبَر » کہہ کر حجراسود کی طرف مُنہ کرتے ( اسے بوسہ دیتے یا استلام کرتے ) پھر ( طواف کے ) تین چکّر اچھل اچھل کر لگاتے اور چار چکّر عام رفتار سے چل کر لگاتے ، پھر دو رکعت ادا کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2716
تخریج حدیث صحيح مسلم