کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: بیت اللہ کا طواف کرتے وقت کپڑے پہن کر زیب و زینت اختیار کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q2701
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لُبْسَ الثِّيَابِ زِينَةٌ لِلْمُلَابِسِينَ وَلِسُتْرَةِ الْعَوْرَةِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنِ الثِّيَابُ مُزَيَّنَةً بِصِبْغٍ، وَلَا كَانَتْ ثِيَابًا فَاخِرَةً، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَالَ فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [الْأَعْرَافِ: 31]. وَلَمْ يُرِدْ بِهَذَا الْأَمْرِ لُبْسَ الثِّيَابِ الْمُزَيَّنَةِ بِالصَّبْغِ وَالْمُوَشَّى، وَلَا لُبْسَ الثِّيَابِ الْفَاخِرَةِ، وَلَكِنْ أَرَادَ لُبْسَ الثِّيَابِ الَّتِي تَوَارَى الْعَوْرَةَ، كَانَتْ فَاخِرَةٌ أَوْ دَنِيئَةٌ، إِذِ الْآيَةُ إِنَّمَا نَزَلَتْ زَجْرًا عَمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَفْعَلُونَهُ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ عُرَاةً غَيْرَ سَاتِرِي عَوْرَاتِهِمْ بِالثِّيَابِ.
حدیث نمبر: 2701
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ ، وَتَقُولُ : الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ ، فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلا أَحِلُّهُ " ، فَنَزَلَتْ : يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (عہد جاہلیت میں ) عورت ننگی ہوکر طواف کرتی تھی اور ساتھ کہتی تھی کہ ” آج جسم کا کچھ حصّہ ظاہر ہوگا یا سارا ہی ننگا ہوا، تو جو حصّہ ننگا ہوگا میں اسے ( کسی کے دیکھنے کے لئے حلال قرار نہیں دیتی ) “ تو یہ آیت نازل ہوئی : « يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ » [ سورة الأعراف : 31 ] ”اے بنی آدم ، ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کیا کرو۔ ‘‘
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَوْمَ النَّحْرِ يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ ، يُؤَذِّنُونَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ أَلا لا يَحُجُّ بَعْدَ الْيَوْمِ مُشْرِكٌ ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، وَكَانَ حُمَيْدٌ ، يَقُولُ: " يَوْمَ النَّحْرِ يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ " ، مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابن شہاب رحمه الله سے روایت ہے کہ امام سعيد بن مسیّب رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ يوم النحر ( دس ذوالحجہ قربانی ) کا دن حج اکبر کا دن ہے ۔ جناب ابن شهاب حمید بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجة الوداع سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنایا تو اُنہوں نے مجھے ایک جماعت کے ساتھ بھیجا کہ یوم النحر کو یہ اعلان کردیں کہ خبر دار، آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کریگا ، اور نہ کوئی ننگا ہوکر بیت اللہ کا طواف کریگا ۔ ابن شہاب رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام حمید فرماتے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی بنا پر یوم النحر بی حج اکبر کا دن ہے ۔