کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا تھا
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَهَلَّ مَرَّةً مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ دَخَلَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كُدًى ، وَخَرَجَ حِينَ خَرَجَ مِنْ كُدًى مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ذوالحلیفہ میں درخت کے پاس سے تلبیہ کہنا شروع کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ذی طویٰ مقام پر پہنچے تو وقت وہیں گزارا حتّیٰ کہ آپ نے صبح کی نماز ادا کی ، پھرغسل کیا ، پھر آپ مکّہ مکرّمہ کی بالائی جانب کداء سے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے ۔ اور جب مکّہ مکرّمہ سے نکلے تو مکّہ مکرّمہ کے زیریں حصّے کداء کی جانب سے نکلے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2694
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، " كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَأَهَلَّ ، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ ، قَالَ : فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوه رکھنے کا حُکم دیتے ، تو کجاوہ رکھ دیا گیا ، پھر انہوں نے صبح کی نماز ادا کی ، پھر وہ سوار ہوئے ، جب سواری انہیں لیکر سیدھی ہوگئی تو انہوں نے قبلہ رُخ ہوکر نیت کی اور تلبیہ پکارنا شروع کیا کہ جب حرم کی حدود میں گئے تو تلبیہ پڑھنا بند کردیا ۔ جب ذی طویٰ مقام پر پہنچے تو رات وہیں بسر کی ۔ پھر صبح کی نماز ادا کی پھر غسل کیا ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ اعتقاد تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2695
تخریج حدیث اسناده صحيح