کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: محرم کو اپنا سر دھونے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حسينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ ، وَقَالَ مَرَّةً فِي غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ أَسْأَلُهُ ، فَأَتَيْتُهُ بِالْعَرْجِ ، وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى صَدْرِهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَسْأَلُكَ : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ " فَأَمَرَ بِدَلْوٍ فَصَبَّ ، فَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا فِي رَأْسِهِ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ الْمِسْوَرُ : لا أُمَارِيكَ فِي شَيْءٍ بَعْدَهَا أَبَدًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عبد اللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا عرج مقام پر محرم کے اپنا سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا ۔ ایک مرتبہ راوی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے حالت احرام میں ) اپنا سر مبارک دھونے کے بارے میں اختلاف ہوگیا ۔ تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا ۔ میں اُن کے پاس عرج مقام پر حاضر ہوا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کر رہے تھے ۔ میں نے اُنہیں سلام کیا ۔ اُنہوں نے جب مجھے دیکھا تو کپڑا اپنے سینے پر لپیٹ لیا حتّیٰ کہ میں نے اُن کے سینے کو دیکھا ۔ میں نے عرض کیا ، مجھے آپ کے بھتیجے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے ہوئے دیکھا تھا ۔ لہٰذا اُنہوں نے پانی کا ایک ڈول منگوایا ، اس میں سے پانی انڈیلا اور اپنے سر پر بہایا ۔ پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصّے کو ہاتھوں سے ملا ۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ جناب عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آ کر بتایا تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے کہ میں اس کے بعد کبھی بھی آپ سے کسی مسئلے میں بحث و تکرار نہیں کروںگا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2650
تخریج حدیث صحيح بخاري