کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: حالت احرام میں بجو مارنا منع ہے
حدیث نمبر: Q2645
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُوَلَّى بِبَيَانِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْوَحْيِ إِلَيْهِ، قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الضَّبُعَ صَيْدٌ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ قَدْ نَهَى الْمُحْرِمَ عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ فَقَالَ: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ (الْمَائِدَةِ: 95)
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والی وحی کے بیان کے ذمے دار ہیں ، انہوں نے بتادیا ہے کہ بجو شکار ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں محرم کو شکار کرنے سے منع کیا ہے ۔ ارشادِ باری تعالی ہے : « لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ » ” جب تم حالت احرام میں ہوتو تم شکار مت مارو ۔ “ [ سورة المائدة : 95 ]
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: Q2645
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ : لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ ، أَنَأْكَلُهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ؟ " قُلْتُ : أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عبد الرحمن بن عبد الله بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ملا تو میں نے اُن سے پوچھا ، کیا ہم بجّو کھا سکتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے پوچھا تو کیا وہ شکار کا جانور ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں ۔ میں نے پھر عرض کیا تو کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2645
تخریج حدیث اسناده صحيح