حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ أَحْمَدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنْ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لا شَرِيكَ لَكَ " ، قَالَ مُؤَمَّلٌ فِي حَدِيثِهِ : وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ " .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح ہے : « لَبَّيْكَ اللَٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ » ” اے اللہ ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ۔ میں تیری فرمانبرداری کے لئے حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ ، میں حاضر ہوں ۔ بلاشبہ ساری تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی ملکیت ہیں ۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔ “ جناب موَمل کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ « لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ » ” اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت کی موافقت کرتا ہوں ، ہر طرح کی خیر و برکت تیرے ہاتھوں میں ہے ۔ تمام امیدیں تیری ذات سے وابستہ ہیں اور ہر عمل تیری رضا کے حصول کے لئے ہے ۔
حدیث نمبر: 2622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے ۔ “ پھر جناب مؤمل کی حدیث کی طرح بیان کی ۔