کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: سفر میں بلندی چڑھتے وقت آہستہ آواز میں ” اللہ اکبر“ پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرُوا تَكْبِيرَةً ، فَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ ، وَلا غَائِبٍ وَهُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَأْسِ رَوَاحِلِكُمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے پھر ( واپسی پر ) جب ہم مدینہ منوّرہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا ۔ توصحابہ کرام نے با آواز بلند اللہ اکبر پڑھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک تمہارا پروردگار بہرہ نہیں ہے اور نہ غائب ہے ، وہ تو تمہارے درمیان ( اپنی مدد وحمایت اور علم کے ساتھ ) موجود ہے ۔ اور تمہاری سواریوں کے سروں کے درمیان ( اپنے علم و قدرت کے ساتھ ) موجود ہے ۔ ( وہ سب سن اور دیکھ رہا ہے ) ۔ “