کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مسافر کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ جب وہ بلندی اور چڑھائی چڑھے تو ” اللہ اکبر“ پڑھے اور جب نیچے اترے تو ” سبحان اللہ“ پڑھے
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا مَضَى ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ سفر پر جارہا تھا ۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے نصحیت فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ “ پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اُس کے لئے ) یہ دعا فرمائی : « اللَّهُمَّ أزْوِلَهُ اْلأرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ » ” اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنادے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2561
تخریج حدیث اسناده حسن
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ( سفر کے دوران ) جب کوئی چڑھائی چڑھتے تو تکبیر پڑھتے اور جب نیچے اترتے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ( سبحان اللہ کہتے ) ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2562
تخریج حدیث صحيح بخاري