کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جانوروں کے چہروں پر مارنا منع ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ دیگر حصّوں پر مارنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمِرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ، وَعَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي أَخْبَارِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ الْبَعِيرِ الَّذِي ابْتَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَعْيَا جَمَلِي ، فَنَخَسَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضِيبٍ أَوْ ضَرَبَهُ " ، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ ضَرْبَ الدَّوَابِّ عَلَى غَيْرِ الْوَجْهِ مُبَاحٌ ، خَرَّجْتُ تِلْكَ الأَخْبَارَ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جانور کے ) چہرے پر داغ لگانے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے قصّے میں ہے ، وہ اونٹ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خرید لیا تھا ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک ہار گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے پہلو میں چھڑی چبوئی یا اسے مارا ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جانوروں کے چہروں کے علاوہ دوسرے حصّوں پر ( بوقت ضرورت ) مارنا جائز ہے ۔ میں نے یہ روایات کتاب البیوع میں بیان کر دی ہیں ۔