کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حُکم اور سفر میں اونٹ کی طاقت کے مطابق سواری کرنے کی اباحت کا بیان
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَرَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ خِفَافٍ لِلْحَجِّ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلا وَعَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ ، فَاذْكُرُوا اللَّهَ إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفرحج کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کمزور اونٹوں پرسوار کیا ۔ تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، ہمارے خیال میں یہ اونٹ ہمیں سواری کا کام نہیں دے سکیں گے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے تو تم جب ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کے حُکم کے مطابق اس کا نام لیکر ( بسم اللہ پڑھ کر ) ان پر سوار ہوجاؤ پھر ان سے خوب اپنی خدمت لو ، بیشک ( اصل میں ) سوار تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ( انسان میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان طاقتوں جانوروں کو اپنے تابع کر سکے ) “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2543
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔