کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ حج اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے
حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي شِمَاسَةَ ، قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ ، فَبَكَى طَوِيلا ، وَقَالَ : فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَمِينَكَ لأُبَايِعَكَ ، فَبَسَطَ يَدَهُ ، فَقَبَضْتُ يَدِي ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا عَمْرٌو ؟ " قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ، قَالَ : " تَشْتَرِطُ مَاذَا ؟ " قَالَ : أَنْ يُغْفَرَ لِي ، قَالَ : " أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرٌو أَنَّ الإِسْلامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ، وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهَدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا ، وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس ( اُن کی تیمار داری کے لئے ) آئے جبکہ وہ حالت نزع میں تھے وہ بڑی دیر تک روتے رہے ، پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈالدی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، اپنا دایاں دست مبارک بڑھایئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمروتمہیں کیا ہوا ؟ ( ہاتھ پیچھے کیوں کیا ہے ) “ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیسی شرط لگانا چاہتے ہو ؟ “ اُنہوں نے عرض کی کہ اسلام لانے سے میرے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیںگے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے عمرو ، کیا تمہیں علم نہیں کہ اسلام گزشتہ گناہوں کو ختم کردیتا ہے ، اور ہجرت بھی سابقہ گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتا ہے ۔ “