کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بعض دفعہ اسلام پر الف لام تعریف کا ہوتا ہے ( اور وہ کل کا معنی دیتا ہے ) لیکن اس کے باوجود اس کا اطلاق اسلام کے بعض شعبوں پر ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: Q2505
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: Q2505
حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الإِسْلامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود پر حق نہیں ( اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ) ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔“
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2505
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔