کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جن لوگوں کو کبھی کبھار پانی میسر آتا ہو ان لوگوں کو پانی پلانے پر جنّت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q2503
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: Q2503
حدیث نمبر: 2503
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " تَقُولُ الْعَدْلَ ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ، قَالَ : " فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاعْهَدْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ ، فَانْظُرْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ لا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلا غِبًّا ، فَإِنَّهُ لا يَعْطَبُ بَعِيرُكَ ، وَلا يَنْخَرِقُ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَسْتُ أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ كُدَيْرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب کدیر الضہی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنّت میں داخل کردے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عدل وانصاف کی بات کرو اور زائد مال صدقہ خیرات کردیا کرو ۔ “ اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر میں یہ کام نہ کرسکوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا کہ جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے ایک اونٹ لیکر مشکیزہ رکھو اور ایسے لوگوں کو پانی پلاوَ جنھیں ایک دن چھوڑ کر پانی ملتا ہے بیشک تمہارے اونٹ کے تھک ہار کر مرنے اور تمہارے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے تمہارے لئے جنّت واجب ہوجائیگی ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے ابوسحاق کے کدیر سے سماع کا علم نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: 2503
تخریج حدیث اسناده ضعيف لارساله