کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان جبکہ وہ وصیت کیئے بغیر فوت ہوگیا ہو ۔ میت کو آخرت میں اس صدقے کا فائدہ ہوگا
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاةُ ، فَقِيلَ لَهَا : أَوْصِي ، فَقَالَتْ : فِيمَا أُوصِي ؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ سَعْدٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا ، لِحَائِطٍ قَدْ سَمَّاهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب سعید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت کے لئے چلے گئے اس دوران میں ام سعد رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت آپہنچا ۔ اُن سے کہا گیا کہ وصیت کرجائیں ۔ وہ فرمانے لگیں ، میں کیسی وصیت کروں ؟ بلا شبہ سارا مال سعد ہی کا ہے ۔ پھر وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے واپس آنے سے پہلے ہی فوت ہوگئیں ۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہیں ساری بات بتائی گئی ۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر میں اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا وہ انہیں فائدہ دیگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں انہیں فائدہ دیگا ۔ “ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا تو میرا فلاں فلاں باغ اُس کا نام لیکر کہا کہ وہ میری والدہ کی طرف سے صدقہ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: 2500
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَأَنَا غَائِبٌ ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الَّذِي بِالْمِخْرَافِ صَدَقَةٌ عَنْهَا .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنی ساعدہ کے سردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میری والدہ اس وقت فوت ہوگئی ہیں جبکہ میں اُن کے پاس موجود نہیں تھا اگر میں اُن کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو وہ صدقہ اُنہیں فائدہ دیگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف ( کھجوروں ) والا باغ اُن کی طرف سے صدقہ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: 2501
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2502
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَعْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا ؟ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَقَالَ : فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا يَعْنِي : بُسْتَانًا .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میری والدہ فوت ہوگئی ہیں ، اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں اس کا فائدہ ہوگا ؟ جناب احمد بن منیع کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میری والدہ وفات پا گئی ہیں اور میرا ایک کھجوروں کا باغ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: 2502
تخریج حدیث انظر الحديث السابق