کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وقف شدہ صدقے کا اجر و ثواب واقف کی موت کے بعد اسے اس وقف تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ صدقہ باقی رہتا ہے
حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثٍ : صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عَمَلٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کا اجراسے ملتا رہتا ہے ، صدقہ جاریہ ، وہ علم جس سے لوگ فائدہ اُٹھا رہے ہوں یا نیک اولاد جو اُس کے لئے دعائیں کرے ۔ “
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ النَّسَائِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيَّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي أَبَاهُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الْمَرْءُ بَعْدَهُ ثَلاثًا : وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ فَيَبْلُغُهُ دُعَاؤُهُ ، أَوْ صَدَقَةً تَجْرِي فَيَبْلُغُهُ أَجْرُهَا ، أَوْ عِلْمًا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” وہ بہترین چیزیں جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ تین ہیں ، نیک بٹیا جو اُس کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اس کی دعائیں پہنچتی ہیں یا صدقہ جاریہ کرجائے تو اس کا اجر اُسے پہنچتا رہے گا ۔ یا ایسا مفید علم چھوڑ جائے جس پر لوگ عمل کریں ( تو اسے اس کا اجر ملتا رہے گا ) ۔ “