کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ایسے لوگوں پر وقف کرنا جائز ہے جو غیر معلوم ہوں اور ان کے نام بھی متعین و مذکور نہ ہوں
حدیث نمبر: Q2485
وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي الضَّيْفِ مِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطِ حِصَّةِ سَبِيلِ اللَّهِ، وَحِصَّةِ الرِّقَابِ، وَحِصَّةِ الضَّيْفِ مِنْهَا، وَإِبَاحَةِ اشْتِرَاطِ الْمُحْبِسِ لِلْقَيِّمِ بِهَا، الْأَكْلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ تَوْقِيتِ طَعَامٍ بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ، أَوْ وَزْنٍ مَعْلُومٍ، وَاشْتِرَاطِهِ إِطْعَامَ صَدِيقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ، مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ قَدْرِ مَا يُطْعِمُ الصَّدِيقَ مِنْهَا‏.‏
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: Q2485
حدیث نمبر: 2485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ ، وَقَالَ : " فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لا يُبَاعَ أَصْلُهَا ، لا تُبَاعُ وَلا تُوهَبُ وَلا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالأَقْوِيَاءِ ، وَالرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالضَّيْفِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورے کے لئے حاضر ہوئے ، پھر مکمّل حدیث بیان کی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو اس شرط پر صدقہ کردیا کہ اسکی اصل فروخت نہیں کی جائیگی ، نہ بیچی جائیگی نہ ہبہ ہوگی اور نہ میراث بنائی جائیگی ۔ یہ فقراء ، رشتہ داروں ، مجاہدین فی سبیل اللہ ، مہمانوں اور مسافروں کے لئے وقف کردی ہے ، اس کے نگران پر کوئی گناہ نہیں کہ اس میں سے معروف طریقے سے کھالے یا اپنے دوست کو کھلادے مگر دولت جمع کرنے والا نہ ہو ۔ ( اپنی ملکیت نہ بنائے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصدقات والمحبسات / حدیث: 2485
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔