باب: اسلام میں وقف کیے جانے والے پہلے صدقے کا بیان
حدیث 2483–2483
باب: ایسے لوگوں کے لئے وقف کرنا جائز ہے جو کثیر تعداد میں ہونے کی وجہ سے شمار نہ ہوسکتے ہوں
حدیث 2484–2484
باب: ایسے لوگوں پر وقف کرنا جائز ہے جو غیر معلوم ہوں اور ان کے نام بھی متعین و مذکور نہ ہوں
حدیث 2485–2485
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ” تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو فقراء اور قریبی رشتہ دارروں پر صدقہ کر دیا ۔ “
حدیث 2486–2486
باب: پانی کے کنویں وقف کرنے کا بیان
حدیث 2487–2487
باب: زرعی زمینیں اور جاگیریں وقف کرنے کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث 2488–2489
باب: مسافروں کے لئے بازار اور پانی پینے والوں کے لئے نہریں بنانے کی فضیلت کا بیان
حدیث 2490–2490
باب: پانی کے کنویں ، مالداروں ، فقراء اور مسافروں کے لئے وقف کرنے کا بیان
حدیث 2491–2491
باب: کنواں وقف کرنے والا شخص اپنے وقف شدہ کنویں سے پانی پی سکتا ہے
حدیث 2492–2493
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وقف شدہ صدقے کا اجر و ثواب واقف کی موت کے بعد اسے اس وقف تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ صدقہ باقی رہتا ہے
حدیث 2494–2495
باب: پانی پلانے کی فضیلت کا بیان ، بشرطیکہ یہ حدیث صیح ہو
حدیث 2496–2497
باب: میت کی وصیت کے بغیر اس کے مال میں سے اس کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان اس میت کے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے
حدیث 2498–2498
باب: میت کی وصیت کے بغیر اس کے مال سے اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے تو اس کا اجر و ثواب میت کے لئے لکھا جاتا ہے
حدیث 2499–2499
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان جبکہ وہ وصیت کیئے بغیر فوت ہوگیا ہو ۔ میت کو آخرت میں اس صدقے کا فائدہ ہوگا
حدیث 2500–2502
باب: جن لوگوں کو کبھی کبھار پانی میسر آتا ہو ان لوگوں کو پانی پلانے پر جنّت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث 2503–2503
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔