کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مساکین کے لئے کھجوروں کا ایک خوشہ مسجد میں رکھنے کا حُکم دینا استحباب اور فضیلت کے لئے ہے ، فرض اور وجوبی حُکم نہیں جناب طلحہ بن عبداللہ کی روایت اسی باب کے متعلق ہے
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ ، فَقَدْ أَذَهَبْتَ عَنْكَ شَرَّهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اس مال کی برائی اور مصیبت کو اپنے سے دُور کر دیا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة التطوع / حدیث: 2470
تخریج حدیث اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ ، فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ، وَكَانَ أَجْرُهُ عَلَيْهِ " . حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، وَقَالَ : إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اپنی ذمہ داری اور فرض ادا کر دیا ۔ اور جس شخص نے حرام مال جمع کیا پھر اس کا صدقہ کردیا تو اسے اس صدقے کا کوئی اجر نہیں ملے گا اور اس پر اس کا گناہ ہوگا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة التطوع / حدیث: 2471
تخریج حدیث حسن