کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: کھجوروں کی اس مقدار کا بیان کہ جب اتنی مقدار میں کسی شخص کی کھجوریں ہوجائیں تو ان میں سے ایک خوشہ مساکین کے لئے مسجد میں رکھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا الْوَسْقَ ، وَالْوَسْقَيْنِ ، وَالثَّلاثَةَ ، وَالأَرْبَعَةَ ، وَقَالَ : فِي جَادِّ كُلِّ عَشَرَةِ أَوْسُقٍ ، فَيُوضَعُ لِلْمَسَاكِينِ فِي الْمَسْجِدِ قِنْوٌ " ، فَسَمِعْتُ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ : قَنْعٌ وَقِنْوٌ وَاحِدٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا والوں کو رخصت دی تھی کہ وہ پھل کا اندازہ کرکے ایک وسق ، دو وسق ، تین اور چار وسق کے بدلے اپنا پھل بیچ دیں ۔ اور فرمایا : ” ہر دس وسق کھجوریں توڑنے پر ایک خوشہ مساکین کے لئے مسجد میں رکھا جائیگا ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے دارمی سے سنا ہے ، قنع اور قِنو کا معنی ایک ہی ہے ” خوشہ “ ۔