حدیث نمبر: Q2467
وَإِنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ تَطَوُّعًا، إِذِ الصَّدَقَةُ بِخَيْرِ الثِّمَارِ وَأَوْسَاطِهَا أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ بِشِرَارِهَا.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اگرچہ صدقہ نفلی ہو کیونکہ عمدہ اور درمیانے درجے کے پھل کا صدقہ دینا ردی پھل کے صدقے سے افضل ہے
حدیث نمبر: 2467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَإِقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ ، وَقِنْوٌ مِنْهَا حَشَفٌ ، وَمَعَهُ عَصًا فَطَعَنَ بِالْعَصَى الْقِنْوَ ، قَالَ : " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا ، إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عوف بن مالک شجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک خوشہ خراب اور ردی تھا ۔ آپ کے پاس ایک عصا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصا اس خوشے پر مارا ( اور کھجوریں گرادیں ) اور فرمایا : ” یہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کرسکتا تھا بیشک اس خوشے کا مالک قیامت کے روزخراب اور ردی کھجویں کھائے گا ۔ “