کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اللہ تعالی کے راستے میں پسندیدہ مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان ۔
حدیث نمبر: Q2455
إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- نَفَى إِدْرَاكَ الْبِرِّ عَمَّنْ لَا يُنْفِقُ مِمَّا يُحِبُّ. قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: [لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ] [آلِ عِمْرَانَ: 92]
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ اللہ تعالی نے اس شخص کو نیکی ملنے کی نفی کردی ہے جو اپنا پسندیدہ مال صدقہ نہیں کرتا ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے « لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ » [ آل عمران : 92] ” تم ہرگز نیکی نہ پا سکوگے جب تک ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو ۔ “
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، أَتَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي أَرْضٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرَحَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْرَحَى خَيْرٌ رَايِحٌ ، أَوْ خَيْرٌ رَابِحٌ " يَشُكٌّ الشَّيْخُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ " ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ ، خَبَرٌ ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدُ بْنُ أَنَسٍ ، خَرَّجْتُهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی « لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ » [ سورة آل عمران : 92 ] تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے ۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اپنے تمام باغات میں سے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ تو نبی کریم نے فرمایا : ”بیرحاء تو فنا ہونے والا مال ہے ( جبکہ اس کا اجر باقی رہیگا ) یا فرمایا کہ بیر حاء بڑا نفع بخش باغ ہے ۔“ راوی کو اس میں شک ہے ۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس باغ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو ۔“ چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قرابت داروں کو اس باغ کے باغیچے تقسیم کر دیئے ۔ میں نے جناب ثابت اور حمید بن انس کی روایت دوسری جگہ بیان کی ہے ۔