کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مال والے شخص کے صدقے کو اس وقت افضل قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل وعیال کی ضروریات سے زیادہ ہو ۔
حدیث نمبر: Q2444
لَا إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى الْأَبَاعِدِ وَتَرَكَ مَنْ يَعُولُ جِيَاعًا عُرَاةً، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِبَدْءِ مَنْ يَعُولُ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس وقت افضل نہیں جب وہ دور کے لوگوں پر صدقہ کرے اور اس کے اپنے اہل و عیال بھوکے ننگے ہوں ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کا حُکم دیا ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة التطوع / حدیث: Q2444
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ . ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جَهْدُ الْمُقِلِّ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، کونسا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مالدار شخص کا تکلیف کے ساتھ صدقہ کرنا افضل ہے ۔ اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة التطوع / حدیث: 2444
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2445
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهُنَا وَهَهُنَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص محتاج ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے ۔ اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے ، اگر مزید مال بچ جائے تو اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے ، اگر پھر بھی مال زیادہ موجود ہو تو پھر ادھر اُدھر ضرورتمندوں پر خرچ کردے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة التطوع / حدیث: 2445
تخریج حدیث صحيح مسلم